"کوئی قوم آزادی کی صبح اس وقت تک نہیں دیکھ سکتی جب تک وہ قربانیوں کی آگ سے نہ گزرے۔"
![]() |
| نواب صاحب |
آج، 26 اگست کا دن، ہمیں ایک ایسی ہی سچائی کی یاد دلاتا ہے۔ شہید نواب اکبر بگٹی کی زندگی محض ایک سیاستدان کی زندگی نہیں تھی، بلکہ وہ عزم و استقامت کے ایک ایسے کوہِ گراں تھے جن کی بلوچ قوم کے حقوق کے لیے جدوجہد ان کی نہ جھکنے والی شخصیت کا ابدی ثبوت ہے۔ ان کی شہادت شکست کی کہانی نہیں، بلکہ اس بات کا پختہ سبق ہے کہ آزادی و خود مختاری کیلئے جنگ ایک مقدس فریضہ ہے، اور اسے کبھی بھی ترک نہیں کرنا چاہیے۔
نواب اکبر خان بگٹی نے ایک اور سچائی کو بڑی دوراندیشی سے بھانپ لیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کامیابی کا واحد راستہ اتحاد و اتفاق میں پنہاں ہے۔ انہوں نے تمام قوم پرست گروہوں کو ایک پرچم تلے جمع ہونے کی دعوت دی تھی، لیکن افسوس کہ ان کی اس دور اندیشانہ پکار کو ٹھکرا دیا گیا۔ ہر گروہ نے اپنی الگ شناخت پر اصرار کیا، اور اس تقسیم کا تلخ انجام آج ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ جس منزل کی جانب ہم نے قدم بڑھائے تھے، وہ آج بھی دور ہے، کیونکہ تاریخ کا یہ اصول ایک اٹل حقیقت ہے کہ
خشت اول گر نهد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
ہمارے سامنے تاریخ کی وہ ناکامیاں بھی ہیں جہاں اتحاد کے خواب بکھر گئے۔ شہید غلام محمد بلوچ نے بلوچ نیشنل فرنٹ کی بنیاد رکھی تھی، لیکن وہ بھی باہمی اختلافات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ آج، اس تلخ تاریخ سے سبق سیکھنا ہر بلوچ سیاسی کارکن کا فرض بن جاتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم انفرادی سوچ، ذاتی و گروہی مفادات و پارٹی بازی سے بالاتر ہو کر ایک وسیع البنیاد، ہمہ گیر قومی و اجتماعی تنظیم کی تشکیل کریں۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جو نہ صرف دشمن کے سامنے ہماری قوت کا مظہر ہوگا، بلکہ یہ ہماری تحریک کی قوت بھی بن جائے گی، جس سے ہم ایک طرف لوگوں کا اعتماد بحال کر سکتے ہیں اور دوسری ہم عالمی برادری کے سامنے ایک متحد و با اثر آواز کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، اور اس داخلی انتشار کا خاتمہ کر سکتے ہیں جس نے گزشتہ پچیس سالوں سے ہمارے دشمنوں کے عزائم کو تقویت دی ہے۔
آج، اس یادگار دن پر، آئیے ماضی پر ماتم کرنے کے بجائے ایک نئے اور متحدہ مستقبل کا عہد کریں۔ آئیے نواب بگٹی کے ان آدرشوں کو اپنائیں اور ان کے پیغام کو آگے لے کر چلیں:
"آزادی اور حق خودارادیت ایک حق ہے، اور اس کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔"
ہم ایک متحدہ، ناقابلِ شکست قوت بن کر ہی اپنی منزل کو پا سکتے ہیں اور اس روشن مستقبل کو حاصل کر سکتے ہیں جو بلوچ قوم کیلئے نوید صبح بن سکے۔

No comments:
Post a Comment